Posts

گندم خریداری مہم، کسان اور بیوپاری

گندم خریداری مہم اپنے آخری مراحل سے گزر رہی ہے۔حکومت پنجاب نے 40لاکھ ٹن گندم خریدنے کے لیے 130ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی تھی۔خریداری مہم کی قومی اخبارات کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی جس میں چھوٹے کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر گندم خریدنے اور عام کسانوں کی سہولت کے لیے کیے گئے ہرممکن اقدامات کا پر زور دکر تھا۔اس کے علاوہ محکمہ خوراک و محکمہ زراعت کے وزراء کے بیانات بھی اخبارات کی زینت بنتے رہے جن میں گندم خریداری مہم سے پٹوار کلچر اوربیوپاری کے خاتمے سمیت کسانوں سے گندم کا آخری دانہ تک خریدنے کا بطور خاص ذکر تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام ترکاوشوں کے باوجود یہ نظام عام کسانوں کو سہولت فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکا یا نہیں۔ اسی سوال کی بازگشت گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی میں بھی سنائی دی۔ عوامی نمائندوں نے سسٹم کی شفافیت اور مفاد پرست بیوپاریوں کی ریشہ دوانیوں پر کئی ایک سوالات اٹھائے۔ ایک نمائندے نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی ہونے کے باوجود اسے اپنی ذاتی گندم بیوپاری کے ہاتھ 1030 روپے فی من کے حساب سے بیچنا پڑی ہے۔ اگر حالات واقعی ایسے ہیں تو پھر ایک عام کسان کے بارے میں...

عالم لوہار، بالی جٹی اور ثقافتی قبرستان

گزشتہ دنوں بی بی سی کی ایک ریڈیو ڈاکومینٹری نظر سے گزری۔ جس میں بالی جٹی کی زندگی اور موسیقی پر مختصر بات کی گئی تھی۔ میرے لئے اس ڈاکو مینٹری میں سب سے حیرانی کی بات یہ تھی کہ بالی جٹی ابھی تک حیات ہے۔نہ صرف حیات ہے بلکہ داستانِ مرزا صاحباں گاتے ہوئے اس کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔اور چمٹے کی لَے سارے ماحول میں خوبصورت ارتعاش پیداکر رہی ہے۔ ڈاکومینٹری میں البتہ اس بات کا تذکرہ نہیں تھا کہ آج سے 40سال پہلے بالی جٹی ،عالم لوہار کے ساتھ تھیٹروں میں گایا کرتی تھی۔یہ تھیٹر کا زمانہ تھا ۔ پنجابی دیہات میں لوگوں کی واحد انٹرٹینمنٹ میلے ٹھیلے اور میلوں میں سجنے والے یہی تھیٹر ہوتے تھے۔اور عالم لوہار کا تھیٹر ان میں سے چوٹی کا تھیٹر ہوا کرتا تھا جس کی گونج پنجاب کے پانچ دریاوں کے اندر اور باہر بسنے والوں کو سنائی دیتی تھی۔ عالم لوہار کو اس جہان سے گزرے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔1979میں ایک کار حادثے میں ان کا انتقال ہوا۔ اور ان کے انتقال کے ساتھ ہی پنجاب کی لوک موسیقی کا ایک درخشاں اور منفرد باب یوں سمجھئے کہ بند ہو گیا۔ کیا ہماری نئی نسل اس بات سے واقف ہے کہ عالم لوہار کتنا بڑا فنکار...

حالیہ بجٹ: چھوٹا کسان اور بڑا بہلاوہ

حالیہ  بجٹ میں دی گئی زرعی مراعات کو بجٹ کے امتیازی نشان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔زرعی شعبے کے لئے 341 ارب کے تایخی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں سب کچھ کسان پر لٹا دیا ہے۔ کھادیں، زرعی ادویات و آلات کسی قدر سستے کر دئیے گئے ہیں اور ٹیوب ویلوں کے بجلی نرخ کم ہو گئے ہیں۔ اس اعلان سے اس طرح کا تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس پیکج سے کسان کی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان مراعات سے عام کسان کی معاشی اور معاشرتی زندگی میں کسی خاطر خواہ تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہاں البتہ اس بجٹ کی خیرو برکت سے زرعی مداخلات سے وابستہ صنعتی گروپوں کاکاروبار چمک اٹھے گا، کیونکہ کھیت میں کھاد اور زرعی ادویات کی کھپت بڑھ جائے گی اور اس طلب کو پورا کرنے کے لئے صنعت کا پہیہ تیزی سے کھومے گا۔کھاد و ادویات کے وافر استعمال سے زرعی پیداوار پر بھی مثبت اثرات پڑنے کی امید ہے۔اور اس پیداواری بہتری کی بدولت ملک کے معاشی زرعی اشاریے بھی آئندہ سال بہتر ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک عام اور چھوٹے کسان کو اس بڑھوتری سے کیا ملے گا۔۔۔صرف حیف ا...

توسیع زراعت اور حالیہ بجٹ 2015

سال 2015 کے بجٹ میں حکومتِ پنجاب نے محکمہ توسیعِ زراعت پنجاب کے لئے قدرے فراخ دلی سے فنڈز مختص کئے ہیں۔ نئی سکیم کے تحت 4 ارب 40 کروڑ کا ایک منصوبہ منظور کیا گیا ہے جس میں جدید توسیعی طریقہ کار کے ذریعے کسانوں کی معاونت کی جائے گی ۔ یقینا یہ ایک قابلِ قدر رقم ہے۔ اس منصوبے میں سال 2015 کے لئے تقریبا 2 ارب روپے جاری کر دئیے گئے ہیں۔ بجٹ میں اس منصوبے کی زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں لیکن میرا اندازہ ہے کہ یہ منصوبہ پانچ سال سے  زیادہ عرصہ تک چلے گا۔  شنید ہے کہ اس میں زراعت افسروں کو لیپ ٹاپ وغیرہ دئیے جائیں گے، انہیں بہتر سفری سہولیات مہیا کی جائیں گی اور توسیع زراعت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زیادہ اور موثر استعمال کیا جائے گا۔ امید ہے کہ زراعت افسروں کو سہولیات دینے کے بعد انہیں ضلعی انتظامیہ کی دست برد سے محفوظ رکھنے کے بارے میں بھی سوچا گیا ہو گا تاکہ یہ نمائندے کسان کی دہلیز تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہو سکیں۔ اس نئی سکیم کے علاوہ، توسیع زراعت کے جاری (پرانے) منصوبوں میں بھی تین سکیمیں شامل ہیں جن میں  سے دو سکیمیں 2016 میں اور ایک 2017 میں مکمل ہو گی۔ ان تینو...

جنیاں تن میرے نوں لگیاں ۔ ۔ ۔ ۔ تینوں اک لگے تے توں جانے

حد یہ ہے کہ ہسپتال میں کوئی ڈاکٹرڈیوٹی پر نہیں تھا۔ اور مریضوں کا علاج معالجہ کمپاونڈروں اور نرسوں کے سپرد تھا۔ میں، مریض کے پہنچنے کے کوئی دس منٹ بعد ہسپتال پہنچا تھا۔ ایمر جنسی وارڈ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک کمپاونڈر مریض کو گلوکوز کی بوتل لگانے کی کوشش میں ہے۔ ایک نرس بھی ساتھ کھڑی ہے۔ ایمر جنسی بستروں پر دو تین اور مریض لیٹے ہوئے تھے جو ہلکی پھلکی چوٹوں کے باعث ہسپتال آئے تھے۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے مریض کووکٹوریہ ہسپتال بہاول پور لے جائیں۔ کمپاونڈر نے بغیر وقت ضائع کئے یہ الفاظ اگل دیے۔ میں نے اور میرے چھوٹے بھائی نے مایوسی کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ سر میں شدید چوٹ کے باعث مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔  یہ میرا بڑا بھائی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ سگا بھائی ۔ ۔ ۔ ۔  دو گھنٹے کا سفر طے کر کے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چشتیاں لایا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔  اور اب یہاں سے بہاول پور کا اذنِ سفر تھا۔ 50 کلومیٹر کے بعد مزید 150 کلومیٹر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی دو گھنٹے کی مسافت کے بعد  مزید تین گھنٹے کی مسافت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوال یہ ہے کہ تعلیم اور صحت جیسی بن...

توسیع زراعت کی غیر موثر کارکردگی: اسباب اور حل

حکومتِ پنجاب کے محکمہ زراعت کا نام تو ہر خاص و عام نے سُن رکھا ہو گا۔ لیکن اسی محکمہ کے ایک منسلک شعبہ توسیعِ زراعت سے کم لوگ ہی واقف ہوں گے۔ توسیع زراعت کا بنیادی مقصد کسانوں کو زراعت کے نت نئے طریقوں سے روشناس کر کے اُن کی زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔  بیج کی ترقی دادہ اقسام کے انتخاب سے لیکر فصل کی بڑھوتری کے تمام مراحل تک کسانوں کی رہنمائی کرنا توسیعی کارکنان کے فرائض میں شامل ہے۔ خاص طور پر فصلوں پرحملہ کرنے والے نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ کرنے کے لئے توسیعی کارکنان کی خدمات نہائت اہم ہیں۔  ہر پندھرواڑے، کسانوں کی فصلوں کا معائنہ کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ کارآمد اور مفید سفارشات دینا شعبہ توسیع کی سرکاری ذمہ داری ہے۔ دیگر اضلاع کی طرح فیصل آباد میں بھی توسیعِ زراعت کا شعبہ اپنے دفتر، واقع جھنگ روڈ سے توسیعی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ توسیعِ زراعت کا یہ نظام، تحصیل اور یونین کونسل سے ہوتا ہوا دیہات کی نچلی سطح تک پھیل جاتا ہے جہاں شعبہ کے زراعت افسر اور فیلڈ اسسٹنٹ کسانوں کو جدید زراعت کی طرف مختلف طریقوں سےراغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے محدود وس...

دنیا کے جو چند عجوبے میں نے دیکھے